پیام میرا ملا تو ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا کے کومل سُبک بدن پر جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا پیام میرا ملا تو ہو گا؟ میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں جو اب لائے؟ مگر وہ نظریں چُرا کے ایسے نکل گئے ہیں کہ جس طرح سے کوئی تونگر کسی شناسائے بے نوا سے نظر بچا کے بدل لے رستہ
Related posts
-
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار... -
ساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر
اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں...
