پیام میرا ملا تو ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا کے کومل سُبک بدن پر جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا پیام میرا ملا تو ہو گا؟ میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں جو اب لائے؟ مگر وہ نظریں چُرا کے ایسے نکل گئے ہیں کہ جس طرح سے کوئی تونگر کسی شناسائے بے نوا سے نظر بچا کے بدل لے رستہ
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں...
